What is Depression-ڈپریشن کیا ہے

جب دو عالمی جنگیں(World-war) ہو چکی تھیں تو ماہرین کا یہ کہنا تھا کہ اب ایک تیسری(آخری) عالمی جنگ ہو گی، جس سے انسان تباہ برباد ہو کر رہ جائے گا۔ یہ تیسری جنگ شروع ہو چکی ہے ، اس کا نام ہے “ڈپریشن” ۔ جو انسان، قوم ، نسل، اس جنگ میں جیت جائے گی وہی وقت اور زمانے کو لیڈ کرے گی۔ لیکن اس جنگ میں جیت جانا اسان نہیں ہے۔

What is depression

یہ بیماری اس وقت دنیا کی تیسری بڑی بیماری بن چکی ہے، اور دنیا کا ہر پانچواں فرد اس کا شکار ہے۔ ہر سال تقریبا 8 لاکھ انسان اس بیماری کے ہاتھوں خودکشی کرتے ہیں۔ تاریخ میں کبھی کسی بیماری کی وجہ سے اتنی بڑی تعداد میں خود کشیاں نہیں ہوئیں جتنی اس بیماری کی وجہ سے ہو رہی ہیں

ڈپریشن کہاں ہوتا ہے، کن وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے، کن کاموں کے کرنے سے ہوتا ہے ۔ ہمیں پتا ہی نہیں کہ ڈپریشن کتنی خطرناک بیماری ہے جس کی وجہ سے 8 لاکھ انسان اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی موت کا گڑھا کھود رہے ہیں ۔ سو ڈپریشن کے مریض کی سب سے بڑی وجہ ناامیدی اور مایوسی ہے ۔

ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کا ہر شخص پریشان ہے ۔کوئی مراش کے سبب، کوئی جسمانی بیماری کی وجہ سے ، کچھ حالات سے ،کچھ صدمات سے، کچھ سانحات سے،اور بہت سے لوگ گہرے دکھوں سے ۔۔ زندگی کے سمندر پر بہت سے پل صراط ہیں اور ہم سب کہیں نہ کہیں ، کسی نہ کسی جگہ ، کسی نہ کسی پل سے گزر رہے ہیں ۔ ہم غم میں ہیں ، تکلیفیں جھیل رہے ہیں ، مشکل کاٹ رہے ہیں، دکھوں سے سینہ چھلنی ہے ہر انسان دکھی ہے۔

چاہے وہ تندور پہ لگانے والی عورت ہے ،یا فٹ پاتھ پر چائے بیچنے والا ایک مرد ، وہ بزنس مین ہے یا ایک دہہاڑی لگانے والا مزدور، وہ پڑھا لکھا پروفیسر ہے یا ایک ان پڑھ جاہل آدمی ، وہ سڑک پہ سونے والا ایک غریب سا شخص ہے یا محمل کے بستر پہ سونے والا امیر آدمی، وہ گاوں کا کسان ہے یا ایک بڑا شہری ہم سب کہیں نہ کہیں پریشان ہیں ۔۔ہر انسان اندر سے ٹوٹ رہا ہے اور مسلسل ٹوٹ رہا ہے تو، کوشش کرتے ہیں پھر ایک دوسرے کو جوڑنے کی ،ایک دوسرے کو دلاسا دینے کی ، اور ایک دوسرے کا سہارا بننے کی، دکھوں کو بانٹنے کی ، مسکراہٹ اور خوش اخلاقی کو اپنانے کی ۔۔

ہمارا اسلام بہت پیارا اور بہت زبردست ہے تبھی تو اس نے اخلاق کے اوپر سب سے زیادہ زور دیا ہے ۔۔یہ کہنے میں بہت اسان ہے اخلاق کو اپنانا مگر تھوڑا سا مشکل ضرور ہوتا ہے شروع میں کیونکہ اس میں ہمیں بعض دفعہ دوسروں کی چند باتیں نظرانداز کر دینی ہوتی ہیں ، کچھ کو درگزر کرنا ہوتا ہے اور باقی معاف کر دینی ہیں ۔۔ ہو سکتا ہے یہ چھوٹے سے کام کر دینے سے ہم سب کی زندگیاں اسان ہو جائیں اور ہم سب ڈپریشن سے بچ جائیں ۔

پہلے ہم خود سے آغاذ کرتے ہیں ، تھوڑا سا خود کو بدل لیتے ہیں ، تھوڑی سی خود کو توجہ دے لیتے ہیں ، اپنے اپ کو اذیت سے نکالتے ہیں ،اپنی ذات سے محبت کرنا شروع کرتے ہیں ۔۔ پھر آس پاس دیکھتے ہیں کہ کس ہماری ضروت ہے ,کوئی پریشان ہے اور اس کو ہمارے تسلی کے دو بول کی ضرورت ہے ،

کسی کا گناہ سامنے آ گیا ہے تو اس کے گناہ کی پردہ پوشی کیسے کرنی ہے ، اگر کوئی مایوس ہے تو کیسے اسے امید دلا کے مایوسی کے اندھیرے سے نکالنا ہے، اگر کوئی پیچھے رہ گیا ہے تو کیسے اس کا ہاتھ پکڑ کے آگے لے آنا ہے۔۔۔

منفی جذبے ، منفی رویے ڈپریشن کا سبب ہیں تو ہم چھوڑ دیتے ہیں ایسا کرنا ۔۔ بےجا غصہ ، حسد ، نفرت، بے صبری ، تکبر ، احساس برتری ، نا پسندیدگی، یہ سب چیزیں ہمیں تباہ کر رہی ہیں تو پھر ہم تباہی کی تجارت کیوں کریں۔۔ نہ اس سے بندے کی رضا ہے نہ رب کی۔۔ چیزیں بدل جاتی ہیں رویے اور سوچ بدلنی پڑتی ہے ۔۔۔

دوسروں کی چند باتیں نظرانداز کر دینی ہیں ۔کچھ کو درگزر کر دینا ہے اور باقی معاف کر دینی ہیں۔۔ ہو سکتا ہے یہ چھوٹا سا کام کر دینے سے ہم سب کی زندگیاں آسان ہو جایں اور ہم سب ڈپریشن سے بچ جائیں۔ تو پھر کوشش کرتے ہیں پہلے خود سے سٹارٹ لیتے ہیں تھوڑا سا خود کو بدل لیتے ہیں اور تھوڑی سی خود کو توجہ دے لیتے ہیں ۔

اپنے آپ کو اذیت سے نکال لیتے ہیں خود سے محبت کرنا اپنی ذات سے محبت کرنا شروع کرتے ہیں ۔۔ پھر ہم آس پاس دیکھیں گے کہ کسے ہماری ضروت ہے ، کس کو ہماری مسکراہٹ چاہیے، کس کے گناہ کی پردہ پوشی کرنی ہے اور کس کی نیکی کی پردہ دری، اگر کوئی مایوس ہے تو کیسے اس کے اندر امید کا دیا روشن کانا ہے اور اگر کوئی پیچھے رہ گیا ہے تو کیسے اس کا ہاتھ پکڑ کے اگے لے کے آنا ہے ۔

منفی جذبے منفی رویے ڈپریشن کا سبب ہیں تو ہم چھوڑ دیتے ہیں ایسا کرنا ۔ بے جا غصہ، نفرت، طنز، حسد، بے صبری، تکبر، احساس برتری، نا پسندیدگی یہ سب چیزیں ہمیں تباہ کر رہی ہیں تو پھر ہم تباہی کی تجارت کیوں کریں نہ اس سے بندے کی رضا ہے اور نہ رب کی۔۔ ڈپریشن ایک ذہنی مرض ہے اس سے بچنے کے لیے ہمیں اپنی پوری روحانی طاقت لگانی ہو گی،

ہمیں اپنی مدد بھی کرنی ہے اور دوسروں کی بھی۔ مایوسی، ناامیدی، اداسی روحانی طاقت میں کمی یہ ذہنی امراض کی وجہ بنتی ہے یہ اس مرض کے لیے زہر کا کام کرتی ہے منفی جزبے ہماری روحانی طاقت کو کھا جاتے ہیں ہمیں اللہ اور زندگی سے بہت دور لے جاتے ہیں ہمیں اپنی کمزوری کو طاقت میں بدلنا ہے ، شک کو یقین میں، ناامیدی کو امید میں، اس کائنات کی سب سے قیمتی چیز اپ ہیں ۔انسان ہے تو ہمیں اس انسان کے لیے سب سے زیادہ کوشش کرنی ہے ۔

خود کو اہمیت دیں ، اپنی زندگی کی قیمت کو پہچانیں دوسرے انسانوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں اللہ اپ کی مشکلیں دور کر دے گا ۔ جس کی زندگی بدل سکتے ہیں اس کی زندگی بدل دیں ۔ وہ آپ کا دوست ہو ، بہن یا بھائی ہو، انجان ہو یا جان پہچان والا ہو وہ کوئی بھی ہو سکتا ہے اس کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں تو کر دیں ۔مایوسی کفر ہے ہر حال میں اس سے بچیں ۔ دوسروں کو بھی بچائیں۔۔۔

Facebook Comments

Website Comments

POST A COMMENT.