کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے CORONA VIRUS

کرونا وائرس ایک گلوبل وبا کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ چین کے شہر دوہان سے پھوٹنے والی اس وبا نے 183ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد259043 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 7128 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ چین کے بعد اٹلی میں 2ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ایران میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ کرونا وائرس سے متاثرہ 78486مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔ماہرین کے مطاق یہ وائرس اتنا خطرناک نہیں جتنی یہ تباہی پھیلا چکا ہے۔ کرونا وائرس کی زندگی 12گھنٹے ہوتی ہے۔ یہ وائرس گلے کے ذریعے پھیپھڑوں تک پہنچتا ہے۔ یہ پہلے چار دن گلے میں رہتا ہے جس سے انسان کھانستا ہے اور گلے میں درد محسوس کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ وائرس سانس کی نالی پر انفیکشن کرتا ہے جس سے اموات کے امکانات تقریباً تین فی صد ہے۔

یہ بات سامنے آئی ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ہی کرونا وائرس سے بچا جاسکتا ہے۔ لہٰذا شہریوں کو چاہیے کہ وہ حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کریں تاکہ اس کے اثرات کو زائل کیاجاسکے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ صابن سے اپنے ہاتھ بار بار کم از کم 20سیکنڈ تک دھوئیں کیونکہ بار بار ہاتھ دھونے سے یہ وائرس دُھل جاتا ہے۔اسی طرح ہمیں چاہیے کہ کھانستے وقت اپنا منہ اور ناک رومال، ٹشو پیپر یا کہنی سے ڈھانپ لیں تاکہ جراثیم دوسرے انسان میں منتقل نہ ہوں۔اسی طرح افواہوں پر کان نہ دھریں اور ماسک پہننا ہر فرد کیلئے لازم نہیں۔ماسک صرف متاثرہ شخص ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق استعمال کریں۔

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں: کرونا وائرس کیا ہے؟

کرونا وائرس کے مریض کے ساتھ غیرضروری ماحول سے پرہیز کیاجائے اور مریض کے استعمال کی اشیاء علیٰحدہ رکھی جائیں۔ متاثرہ ممالک سے آنے والے افراد بخار، کھانسی یا سانس کی تکلیف کی صورت میں فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے طبی معائنہ کرائیں۔ صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد نے بتایاکہ پنجاب میں صرف ایک کنفرم مریض ہے جبکہ 22مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔ ٹیسٹ نیگٹو آنے کی صورت میں انہیں فارغ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایاکہ کنفرم مریضوں کو پی کے ایل آئی میں ٹرانسفر کیا جائے گا۔ حکومت پنجاب نے محکمہ صحت کو ضروری سامان خریدنے کیلئے 24کروڑ روپے کے فنڈز جاری کر دیئے ہیں۔ کرونا وائرس کی تشخیص کیلئے 10ہزار کٹس منگوائی جا رہی ہیں۔ پنجاب کابینہ نے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کی منظوری بھی دے دی ہے اور ایک لاکھ لوگوں کیلئے ایک ہفتہ کے اندر علاج معالجہ کی سہولت قائم کی جاسکتی ہے۔

پنجاب میں 3 ہزار چینی باشندوں کی سکریننگ کا کام مکمل کر لیاگیا ہے جبکہ ایران سے آنے والے تقریباً 4ہزار زائرین کی سکریننگ کر لی گئی ہے۔ حکومت پنجاب نے ڈیرہ غازی خان میں 800مریضوں کیلئے قرنطینہ کی سہولت قائم کر لی ہے۔کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے صوبہ بھر کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں میں ہائی ڈیپینڈینسی یونٹس اور آئسولیشن وارڈز قائم کر دیئے گئے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے صوبہ بھر میں کرونا وائرس سے بچاؤ اور پیشگی سدباب کے لئے تین ہفتوں کے لئے تعلیمی ادارے بند رکھنے اور عوامی اجتماعات نہ کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں: پاکستان میں بچہ پیدا کرنے کے لیے آپریشن کمائی کا ذریعہ ہے؟ اس کی صورت حال کیاہے

صوبہ بھر میں تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے بشمول سکول، کالج، میڈیکل کالج، ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ، یونیورسٹیزاگلے تین ہفتے کے لئے بند رہیں گے اوراگلے تین ہفتو ں کے دوران ہونے والے تمام امتحانات منسوخ کردیئے گئے ہیں – تمام ٹیوشن سینٹر بھی بند رہیں گے فیصلے کے مطابق تمام دینی مدارس تین ہفتے کے لئے بند رکھے جائیں گے – دینی مدارس میں بند صرف غیرملکی طلبہ کو مدارس کے ہوسٹل میں رہنے کی اجازت دی جائے گی-وزیراعلیٰ کے احکامات کے مطابق صوبہ بھر میں تمام میرج، بینکوئٹ ہال اور مارکی تین ہفتوں کے لئے بند رہیں گی-اگلے تین ہفتوں کے لئے تمام مذہبی اجتماعات اورتقریبات بھی منسوخ کردی گئی ہیں -جشن بہاراں اور دوسرے میلے بھی تین ہفتے کے لئے منسوخ کردیئے گئے ہیں –

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام سرکاری اور نجی سپورٹس فیسٹیول بھی تین ہفتے کے لئے منسوخ کئے جاچکے ہیں -وزیراعلیٰ کی ہدایت کے مطابق تین ہفتوں کے لئے جیلوں میں مقیم قیدیوں سے ملاقاتوں پر پابندی لگا دی گئی ہے اورتین ہفتوں کے لئے تمام قسم کے عوامی اجتماعات کے انعقاد پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے-وزیراعلیٰ کی ہدایت پرپی ایس ایل کے میچزشائقین کے بغیر منعقد ہوں گے-وزیراعلیٰ کی ہدایت پرمحکمہ پرائمری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کی مشاورت کے ساتھ محکمہ اطلاعات موثرمیڈیا کمپین کا اہتمام کررہا ہے- تمام متعلقہ ڈیپارٹمنٹ مذکورہ بالا احکامات کی تعمیل کے لئے مؤثر اقدامات اور گائیڈ لائن جاری کردی گئی ہیں وزیر اعلیٰ کے احکامات فوری طور پر فوری طورپر عمل درآمد کردیاگیا ہے۔

کورونا وائرس کیخلاف یہ دوائی تیز ترین نتائج دے رہی ہے
چینی ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف فیوی پیراویر نامی ایک دوا مؤثر ثابت ہو رہی ہے، اس دوا کی اب تک کلینیکل آزمائش کی جا رہی تھی۔

تفصیلات کے مطابق چین کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ایک عہدیدار زینگ شن من کا کہنا ہے کہ فیوی پیراویر نامی جاپانی اینٹی وائرس دوا کے اثرات چین کے شہروں ووہان اور شینزن میں کلینیکل ٹرائلز کے دوران حوصلہ افزا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس دوا کو 340 مریضوں کو استعمال کروایا گیا اور یہ وائرس کے خلاف محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے علاج میں بھی واضح طور پر مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق شینزن میں جن مریضوں کو یہ دوا استعمال کروائی گئی ان میں ٹیسٹ مثبت آنے کے 4 دن بعد وائرس ختم ہو گیا، جبکہ اس دوا کے بغیر مرض کی علامات کیلئے دیگر ادویات کے استعمال سے صحتیابی میں اوسطاً 11 دن درکار ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایکسرے سے علم ہوا کہ اس نئی دوا کے استعمال سے 91 فیصد مریضوں کے پھیپھڑوں کی حالت میں بھی بہتری رونما ہوئی، جبکہ دیگر ادویات میں یہ شرح 62 فیصد کے قریب ہوتی ہے۔

جاپان میں بھی ڈاکٹروں کی جانب سے اس دوا کو کورونا وائرس کے معمولی سے معتدل علامات والے مریضوں پر ہونے والے کلینیکل ٹرائلز کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے اور ڈاکٹرز کو توقع ہے کہ اس کے استعمال سے مریضوں میں وائرس کی نشوونما کی روک تھام ممکن ہے۔ یہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ جاپان نے قلیل ترین وقت میں کورونا وائرس کی تشخیص کرنے والی اسٹرپ تیار کر لی

جاپانی وزارت صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دوا سنگین علامات والے مریضوں کیلئے ممکنہ طور پر زیادہ مؤثر نہیں کیونکہ ایسے مریضوں پر اس کا اثر دیکھنے میں نہیں آیا جن میں یہ وائرس زیادہ پھیل چکا تھا۔ ان کے مطابق اس نئی دوا کو کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کیلئے بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کیلئے حکومتی اجازت کی ضرورت ہوگی کیونکہ یہ بنیادی طور پر فلو کے علاج کیلئے تیار کی گئی تھی۔

گھبرائیں نہیں احتیاطی تدابیر اپنائیں

پنجاب حکومت نے کورونا وائرس کا ٹیسٹ انتہائی آسان کر دیا! ہسپتال جانے کی ضرورت نہیں اس دوا کو فیوجی فلم ٹویاما کیمیکل نے سنہ 2014ء میں فلو کیلئے تیار کیا تھا تاہم کمپنی نے چین کے حالیہ دعوے پر کوئی ردعمل نہیں دیا، البتہ چینی عہدے دار کے بیان کے بعد کمپنی کے حصص میں بدھ کو 14 فیصد سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

دوسری جانب امریکی شہر سیئٹل میں واقع واشنگٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں کورونا وائرس کی ویکسین کے تجربے کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ اس ویکسین کی آزمائش 45 صحت مند انسانوں پر کی جائے گی اور اس کے حتمی نتائج جاننے میں 12 سے 18 ماہ کا وقت لگے گا۔ اس کے بعد ہی یہ تعین کیا جا سکے گا کہ ویکسین وائرس کے خلاف کس حد تک مؤثر ہے

معمولی سے فلو،کھانسی بخار کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، کھانسی اور چھینک آنے کی صورت میں ٹشو منہ پر رکھیں اور ٹشو کو محفوظ جگہ پر تلف کریں ،کراچی میں اب انسانوں سے انسان میں منتقل ہونے کا پہلا کیس سامنے آیا ہے جو خطرناک بات ہے۔ ہاتھوں کو واش کیے بغیر آنکھوں اور منہ پر نہ لگائیں، 1960 میں کورونا وائرس کا نام دنیا نے سنا اوراب تک اس کی کئی تبدیل شدہ اقسام سامنے آ چکی ہے اس سال اس وائرس کو سی او وی آئی ڈی-2019 کا نام دیا گیا ہے جو اس وائرس کی بالکل نئی شکل ہے

Article Tags

Facebook Comments

POST A COMMENT.