جنگلات کی اہمیت وافادیت

کسی بھی ملک کی ترقی میں جنگلات کا کردار اہم ہوتا ہے۔جنگلات نہ صرف بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ بلکہ اس میں رہنے والے چرند وپرند کو رہنے کی جگہ اور خوراک فراہم کرتے ہیں۔جنگلات سے نہ صرف لکڑی حاصل کی جاتی ہے بلکہ ان سے ربڑ،شہد،اور قیمتی جڑی بوٹیاں حاصل کی جاتی ہیں۰جو انسانوں کے علاج کے لئے مفید سمجھی جاتی ہیں۰ درختوں سے حاصل ہونے والی ربڑ گاڑیوں کے ٹائر بنانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۰ انڈونشیا اور

ملائشیاکی معشیت کا انحصار جنگلات سے حاصل ہونے والی ربڑ ہے ۔
جنگلات ہمیں تازہ ہوا فراہم کرتے ہیں اور رہنے کے لیے چھت بھی مہیاکرتے ہیں اور یہ آب وہوا میں بھی نمی کا باعث بنتے ہیں اور گلوبل وارمنگ یعنی درجہ حرارت میں تبدیلی سے بچاتے ہیں اور زمین کی ساحت کو برقرار رکھتے ہیں اس میں ہونے والی تبدیلیوں سے بھی بچاتے ہیں یعنی زمینی کٹاؤاور سیلاب جیسی صورتحال سےبھی ہمیں محفوظ رکھتے ہیں جنگلات کا سب سے اہم کردار کہ وہ مختلف قسم کی آلودگی یعنی پانی کی آلودگی (ہوا کی آلودگی) اور

شور جیسی آلودگی سے ہمیں محفوظ رکھتے ہیں
دنیا کے کئی ممالک جن میں برازیل،کنیڈا،امریکہ،انڈیا،انڈونیشیا،اور ملایشیا دیگر کئی ممالک جنگلات کے حوالے سے خودکفیل سمجھے جاتے ہیں اور یہ ممالک قیمتی زرمبادلہ کما کر اپنے ملک کی معاشی ترقی کے لیےاہم کردار ادا کرتے ہیں کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کے لیے اس ملک کے پاس تقریباً25 فیصدجنگلات کا پایا جانالازمی ہے لیکن بد قسمتی سے اصل مسلۂ جس کی طرف میں آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں وہ ہے جنگلات کا خاتمہ ہمارا ملک پہلے ہی جنگلات کی کمی کا شکار ہے اور اوپر سے جنگلات کی کٹائی زور وشور سے جاری ہے

۰پاکستان میں تقریباً چار سے پانچ فیصد رقبے پر جنگلات رہ گئے ہیں اور آزادکشمیر میں 1947 کہ وقت تقریباً 40فیصد حصے پر جنگلات پھیلے ہوۓ تھے لیکن آج صرف 10فیصد حصے پر باقی رہ گۓ ہیں ریاست آزادکشمیر میں درختوں کی کمی کی وجہ آزاد گورمنٹ کی عدم دلچسپی ہے اور جنگلات میں آگ لگانا حس کی وجہ سے نہ صرف قیمتی درخت بلکہ جانداروں کی بقاء کا مسئلہ بھی ہے آگ لگانے کی وجہ سے ان گنت جاندار مر جاتے ہیں اور ان کی نسلوں کو بھی خطرات لاحق ہو رہے ہیں

انسان اپنے مٹھی بھر فائدے کے لیے کئ جانداروں کی زندگیوں سے کھیلتا ہے. ریاست آزادکشمیر کو چاہۓ کہ آپ لوگوں میں جنگلات کی اہمیت اور افادیت کے شعور کو اجاگر کریں اس آگاہی مہم کے زریعہ درخت لگانے اور ان کی حفاظت کے لیے اقدامات کریں اور آگ لگانے اولوں ں کو کڑی سے کڑی سزآئیں دی جائیں آزادکشمیر کے اندر بہت سارے علاقے موجودہ ہیں جہاں پر چیڑ، دیودار، پھلاھی، سفیدہ کے درخت لگاۓ جاسکتے ہیں.

جو نہ صرف ریاست کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ سیاحتی مقامات میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے اور ریاست میں ہر سال کڑوڑوں روپے کی چوری کاٹ کر اسمگلنگ کی جارہی ہے اور اس کی روک تھام کو یقینی بنایا جاۓ پاکستان ان چند ملکوں میں شامل ہو چکا ہے جو گلوبل وارمنگ کا سامنا کر رہے ہیں. پاکستان میں مسلسل درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے

.ایک اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً 15ارب سے زائد درخت کاٹے جاتے ہیں اور ہر ایک سیکنڈ میں ایک فٹ بال گرونڈ جتنا حصہ درختوں کا کاٹ دیا جاتا ہے. جس کی وجہ سےجنگلی جانداروں کی زندگیوں کو شدید حطرات لاحق ہیں

جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے لینڈ سیلائیڈنگ اور سیلاب میں اضافہ ہو رہا ہے. جس کی وجہ سے زمینی کٹاؤ مسلسل بڑھ رہا ہے اور کھیتوں میں کھڑی فصلیں تباہ ہو رہی ہیں اور سیلاب اپنے ساتھ مٹی کو بھی لاتے ہیں جس کی وجہ سے ڈیم پانی کم سٹور کرتے ہیں گلیشئرز کا پگلنا جس کی وجہ سے کئ ممالک کو ڈوبنے کا خطرہ لاحق ہو چکا ہے اس میں مالدیپ ، جاپان، انڈونیشیا، اور دیگر کئ ممالک ڈوب سکتے ہیں گلوبل وارمنگ جیسا مسئلہ پوری دنیا میں زیر بعث ہے

ہر سال اس پر اقدامات کرنے کے لیۓ زور دیا جاتا ہے لیکن کوہی حاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلتا ہے ہم سب کو چاہئے کہ ہم جنگلات کی اہمیت اور افادیت کو سمجھیں اور جنگلات کی تعداد میں اضافہ کریں

تحریر :”محمد سلیمان خلیل”

Facebook Comments

POST A COMMENT.