محبت اور نشے میں فرق

اس کائنات کی تخلیق محبت کے نام پہ وجود میں آ ئی ہے۔محبت اٹل حقیقت ہے۔یہ ایسا احساس ہے جس میں صرف محبوب کی خوشی اہم ہوتی ہے۔کائنات کی ہر چیز محبت ہے۔اس کائنات کی بنیاد ہی محبت ہے۔یہ محبت ہی ہے جس نے ہر چیز میں زندگی کو زندہ رکھا ہوا ہے ۔ ایک بے بس کر دینے والا جزبہ جو انسان کو اپنے سامنے سر نگوں کر لیتا ہے اور انسان کی اپنی”میں” کو ختم کر دیتا ہے۔ محبت دینے کا نام ہے۔محبوب محب سے پانے کی یا چاہے جانے کی توقع نہیں رکھتا ۔ محبت دھڑکن ہے۔ محبت رگوں میں گردش کرتا لہو ہے۔ محبت محب کو سوچ کر عقیدت سے آ نکھوں سے بہنے والا آ نسو ہے ۔ کسی کو اپنے نام کر لینا محبت نہیں ، کسی کے نام ہو جانا محبت ہے ۔ محبت سانس ہے۔ محبت آ س ہے۔ محبت مان ہے ۔ محبت اپنی ہار ہے۔ محبت کسی کو عزت دینا ہے۔ محبت کسی سے عقیدت رکھنا ہے۔

محبت ہمیشہ زندہ رہتی ہے یہ کبھی مرتی نہیں میں نے بہت سے لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ اب ہماری محبت نہیں رہی وہ مر چکی ہے۔وہ غلط کہتے ہیں محبت کبھی مرتی نہیں سچی محبت ہمیشہ زندہ رہتی ہے ۔محبت بےلوث ہوتی ہے۔ محبت لالچ سے پاک ہوتی ہے۔ محبت بنا مطلب کے ہوتی ہے۔۔ سچی محبت نفع و نقصان سے مبرا ہوتی ہے یہ وہ تجارت نہیں ہوتی جو لو اور دو کے اصولوں پر چلتی ہو۔ اور یہ یاد رکھیے گا محبت ہمیشہ شرک سے پاک ہوتی ہے۔معروف رائٹر محمود ظفر اقبال ہاشمی کہتے ہیں کہ محبت۔ ہمیشہ ایک سے ہوتی ہے ، ایک سی ہوتی ہے اور ایک بار ہوتی ہے۔لیکن ہمیشہ دو انسانوں کے درمیان ہوتی ہے۔ دو طرفہ بنیاد پہ ہوتی ہے صرف دو میں تقسیم ہوتی ہے اور صرف دو میں جمع ہوتی ہے کچھ اس طرح کہ دونوں کوئی تفریق باقی نہیں رہتی۔ اور کہا یہ جاتا ہے محبت سحری میں پیے جانے والے آ خری گھونٹ کی طرح ہونی چاہیے جس کے بعد دوسری گھونٹ کی گنجائش نہ ہو۔

سچی محبت نہ شکل و صورت کی محتاج ہوتی ہے اور نہ ہی قابلیت کی۔ یہ ہے سچی محبت ۔۔ اب آ تے ہیں اس نام نہاد محبت کی جانب جس کا شکار آ ج ہر دوسرا بندہ ہے۔ آ ج کے اس دور میں ، میں نے ان لوگوں کو بھی محبت کا راگ الاپتے دیکھا ہے جو لوگ محبت کے ” م” سے بھی واقف نہیں ہوتے اور ایسے لوگ محبت کا دعوہ کر رہے ہوتے ہیں کہ جناب ہم سے محبت ہو گئی۔ ہم محبت کے جال میں پھنس گئے ۔ آ پ جانتے ہیں آ ج کی 95% محبت جو ہوتی ہے جسے محبت کا نام دیا جاتا ہے وہ محبت نہیں نشہ ہوتا ہے اور نشہ کیسا ہوتا ہے کبھی آ پ نے نشئی آ دمی کو دیکھا ہے جب وہ نشے میں دھت ہوتا ہے تو وہ کیا ہوتا ہے اور جب اسے وہ نشہ آ ور ادویات نہیں ملیں تو اس کی حالت کیسی ہوتی ہے ۔ آ ج ہماری نوجوان نسل کے ساتھ یہی ایک مسئلہ ہے کسی کی ساتھ ایک دن نہیں ، ایک گھنٹہ بات کر لی اور پھر اس گفتگو کے اندر کوئی ایک سوچ ایک جیسی مل گئی ، ایک جیسا کوئی خیال آ گیا تو اسے محبت کا نام دے دیا۔ یہ یاد رکھیے گا محبت آ پ کو کسی کے وجود کا عادی نہیں بنایا کرتی ۔ جو آ پ کو عادی بنا دے وہ محبت نہیں نشہ ہوتا ہے

محبت، خوائش، اور ضد یہ تینوں ایک ساتھ نہیں ہو سکتیں۔۔ محبت میں محبوب کی خوشی زیادہ عزیز ہوتی ہے آپ محبوب کی خوشی کی خاطر بڑی سے بڑی قربانیاں دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہو صرف یہ کہ آ پ کا محبوب آ پ کی وجہ سے خوش ہو جائے۔ اور خوائش کیا ہوتی ہے آ پ خوائش کرتے ہو کہ آ پ کو آ پ کا محبوب مل جائے۔

آ پ یہ خواہش رکھتے ہو کہ آ پ کی زندگی آ پ کے اپنے محبوب کے ساتھ گزرے۔اگرچہ اس میں آ پ کے محبوب کو مشکلات، پریشانیوں کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے، وہ بے شک کانٹوں کے راستے پر چل کر آ ے مگر آ ے ضرور آ پ کے پاس۔ اور ضد ۔۔ وہ آ پ کرتے ہو آ پ کو بس آ پ کا محبوب ملنا چاہیے، نہ اس کے سوا ملے اور نہ ہی اس جیسا ملے بس ملے تو صرف وہی ملے۔ ہر حال میں ملے ہر صورت میں ملے، جس طرح چاہے مل جائے مگر اس کا ساتھ زندگی بھر کے لیے مل جائے۔۔ یہ محبت نہیں ہوتی اور ایسی محبت اگر آ پ حاصل بھی کر لیتے ہیں تو وہ حاصل ہو جانے کے بعد اپنی قدر، اپنی عزت ، اپنا ایک مان اور اپنا وقار کھو دیتی ہے۔

اور یہ یاد رکھیے گا کہ محبت ہمیشہ دو طرفہ بنیاد پہ ہوتی ہے ، یہ جو ون سائیڈ والی محبت ہے نا!! یہ صرف کہانیوں، ڈراموں اور فلموں میں ہی ہوا کرتی ہے حقیقت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔۔ کہانی، ڈرامے اور فلم میں رائٹرز جس طرف چاہیں گے اپنے قلم کا رخ موڑ لیں گے، اور اپنی مرضی سے اسے آ خر میں جا کے ملوا دیں گے ان کو جدا کر دیں گے مگر حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتاایک بات ، اگر آ پ کو یہ ون سائیڈڈ والی محبت کبھی ہو جاتی ہے نا!! تو آ پ کام کیجئیے گا، آپ نے صدقہ دینا ہے۔۔ کہا یہ جاتا ہے کہ ایک دن سائیکالوجسٹ صابر چودھری صاحب اپنے گھر میں بیٹھے اپنی ایک کتاب لکھ رہے تھے کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی، وہ گئے اور جا کے دروازہ کھولا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کا ایک دوست بہت ہی بری حالت میں کھڑا ہے ، بال بکھرے ہوئے ،لباس شکن زدہ اور آ نکھیں اندر کو دھنسی ہوئیں، مرجھایا ہوا چہرہ اور پریشان حال۔ وہ کہتے ہیں کہ جیسے ہی اس نے مجھے دیکھا وہ میرے گلے لگا اور زور زور سے رونے لگ گیا۔

میں نے بھی اسے منع نہ کیا اور رونے دیا کیونکہ میں ایک سائیکالوجسٹ تھا اور میں جانتا تھا کہ جو اس کے اندر اتنے دنوں کا غبار ہے وہ آ ج نکل جائے گا ، جب اس کے رونے میں تھوڑی سی کمی آئی تو میں اسے اندر لایا اور اس سے پوچھا کہ کیا پریشانی ہے، کیا ہوا ہے ، وہ پھر میرے گلے لگا اور رونے لگ گیا کل،کافی دیر کے بعد جب وہ چپ ہؤا تو کہنے لگا چودھری صاحب مجھے محبت ہو گئی ہے،

اتنا کہا اور پھر رونا شروع کر دیا اور اسی طرح پھ اس نے روتے روتے اپنی پوری کہانی سنا دی، جب میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں جس سے محبت ہوئی ہے کیا اسے بھی تم سے محبت ہے تو وہ کہنے لگا اسے تو ابھی پتا بھی نہیں ، میں نے کہا دیکھو پہلے تم اس کو بتاؤ اگر تو وہ اور اس کے گھر والے قبول کرتے ہیں تو میں خود تمہررا رشتہ لے کے جاؤں گا اور تمہاری شادی کرواؤں گا۔ لیکن پہلے تمہیں ایک کام کرنا ہو گا تمہیں صدقہ دینا ہو گا اگر تو وہ محبت ہوئی تو قائم رہے گی اور اگر وہ بلا ہوئی تو وہ ٹل جائے گی ۔۔ کیونکہ ایسی محبت جب بھی ایسے طریقے سے آتی ہے اپنے ساتھ مصیبت لاتی ہے ۔

اور ایک مہینے بعد میرے پاس آ نا ۔میرے سمجھانے پر وہ سمجھ گیا اور چلا گیا۔ اور ایک مہینہ گزرا تو دوبارہ دروازے پر دستک ہوئی اتفاق سے اس دن بھی میں گھر میں اکیلا تھا۔ جب میں نے جا کے دروازہ کھولا تو وہی دوست ہشاش بشاش چہرہ کے ساتھ بہت ہی خوبصورت دکھائی دے رہا تھا جب میں نے اس سے اس کی محبت کا پوچھا تو کہنے لگا، چودھری صاحب وہ بلا تھی جو ٹل گئی چلیں آ ئیں کوئ اور بات کرتے ہیں۔۔

قاسم علی شاہ کا یہ کہنا تھا کہ میرے پاس ایک کونسلنگ کے لیے ایک لڑکا آ یا اسے محبت ہو گئی تھی اور وہ اپنی کونسلنگ کرنا چاہتا تھا جب وہ چلا گیا تو کوئی ڈیڑھ سال بعد جب میری اس سے کہیں ملاقات ہوئی تو میں نے اس سے پوچھا بیٹا کیا بنا سناؤ اپنی محبت کے بارے میں تو کہنے لگا “اوہ وہ محبت ” اب تو نئ ایک اور بھی ہو گئی ہے سو ایسی محبت زیادہ دیر نہیں رہتی۔
محبت کسی کو بادشاہ بنا دیتی ہے تو کسی کو فقیر۔ محبت کرنے والوں کا دل بہت کھلا ہوتا ہے وہ کائنات کی ہر شے سے محبت کرتے ہیں۔

محبت جب آ پ کو ہو جاتی ہے نا توآ پ کے حرکات و سکنات سے محبت کا پتہ چلتا ہے آ پ اسے چھپا کے رکھتے ہیں اور ایک اونر شپ سمجھتے ہیں کہ یہ میری محبت ہے میں اسے سر عام تزکرہ کیوں کروں۔ محبت آ پ کے اندر تبدیلی لاتی ہے۔ محبت آ پ کو اندر سے پختہ کرتی ہے۔ اپنے دل کے دروازے محبت کے لیے کھلے رکھیں صدا کیوں کہ محبت بنا دستک کے آ تی ہے اور دروازہ نہ کھلنے پر واپس بھی پلٹ جاتی ہے۔

اگر کوئی آ پ سے آ کے کہتا ہے نا کہ اسے آ پ سے محبت ہو گئی ہے تو اس کی محبت کو قبول کر لیں مگر ٹائم لے لیں، کیونکہ کہ قاسم علی شاہ کا کہنا یہ ہے کہ جو اچانک سے محبت ہوتی ہے نا وہ اچانک سے ہی ختم ہوتی ہے مزید وہ یہ کہتے ہیں کہ ایسی محبت کم از کم محبت اٹھارہ مہینے رہتی ہے اس کے بعد سب ختم ہو جاتا ہے اور محبت کرنے والے اپنا راستہ بھی بدل لیتے ہیں۔ سو محبت کو قبول کر لیں مگر ٹائم لیں اور اتنے عرصے کے بعد بھی اگر کوئی آ پ کے ساتھ ہے

اور آ پ کی خوشیاں اسے عزیز ہیں تو ایسے لوگوں کی قدر کریں اور انہیں کبھی مت ناراض کریں۔ آ پ کی محبت کا سب سے زیادہ حقدار آ پ کا رب ہے اس سے محبت کیجئیے اور اس کے ساتھ وفا کریں اور پھر آ پ کی محبت کے حقدار آ پ کی ماں اور باپ ہیں اور آ پ کے اپنے محرم ہیں۔ محبت کیجئیے اور محبت پھلائییے مگر سچی محبت کیجئیے پاک اور صاف محبت کیجئیے اور محبت کی توہین مت کریں۔۔

Article Tags

Facebook Comments

Website Comments

  1. Royal CBD
    Reply

    Can I just say what a relief to discover a person that really
    knows what they are discussing over the internet. You actually realize how to bring an issue to light and make it important.
    More people really need to look at this and understand this
    side of the story. I can’t believe you aren’t more popular since you certainly possess the gift.

POST A COMMENT.