تیری گودی میں سونا چاہتا ہوں اے ماں

تیری گودی میں سونا چاہتا ہوں
اے ماں جی بھر کے رونا چاہتا ہوں
بِچھا دے اپنا آنچل میرے سر پر
وہ تھپکی وہ بِچھونا چاہتا ہوں
احمد آفاق

ماں بچّوں کا ایسے ہی خیال رکھتی ہے جیسے کہ بچپن میں۔۔۔بچّے کی ذرا سے بیماری پہ ماں مُضطرب ہو جاتی ہے اور راحت کے اسباب مہیّا کرتی ہے آزمانا چاہو تو کبھی ویسے ہی بیمار ہو کر دیکھ لو۔۔۔یہ ماں ہی ہے جو کہ اپنے بچّوں کے ناز نخرے اُٹھاتی ہے ، ان کے غصےّ پہ خاموش ہو جاتی ہے ، اکیلے میں بچّوں کے رویےّ پہ بین کرتی اور روتی ہے اور خدا سے دعا کرتی ہے کہ وہ بچوں کو ہمیشہ سلامت رکھے ، انہیں ہدایت دے اور زمانے کی کڑی دھوپ سے بچاٸے۔۔۔

یہ وہی ماں ہوتی ہے جو بچپن میں اپنے بچوں کے لیے سسرال والوں کے طعنے ، ہر طرح کی تکالیف اور دکھ ہنس کر سہہ جاتی ہے۔۔محض اسی لیے کہ اولاد جب جوان ہو گی تو ساری تکالیف دور ہوں گی۔۔۔خوشی آنگن میں راج کرے گی اور یہ اولاد ماں باپ کا سہارا بنے گی مگر۔۔۔اکثر اوقات ماں باپ کی ان امّیدوں پر پانی پھرتے دیکھا۔۔۔وہی بچہ جسے ماں ہاتھ پکڑ پکڑ کر چلنا سکھاتی ہے ، اس کے بولنے پر پھولے نہ سماتی ہے اور اس کی کامیابیوں پر اس کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے ، جب جوان ہوتا ہے تو یوں محسوس کرتا ہے کہ جیسے کاٸنات کو اسی نے تھام رکھا ہے اور وہ سب سے سیانا ہے۔۔

۔وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ میں اکیلا ہی سب کچھ ہوں۔۔۔وہ ماں باپ سے عار محسوس کرتا اور انہیں طرح طرح سے اذیتّ پہنچاتا ہے۔۔۔وہی ماں پہلے سسرال والوں کے طعنے اور بعد میں بچوں کے دکھوں کو سہتی اور اندر ہی اندر ختم ہوتی جاتی ہے جس کا احساس بچوں کو نہیں ہو رہا ہوتا مگر جب موت کی دیوی اسے اپنی آغوش میں لیتی ہے تو شاید اس ماں کو زمانے کے دکھوں سے سکون ملتا ہے اور نجانے دل میں بچوں کے لیے کتنی محبّت اور خواہشات لیے منوں مٹی تلے چلی جاتی ہے۔

۔۔اس وقت بچوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ کاش کاش کاش میری پیاری “ماں” ایک بار پلٹ کر آٸے اور میں جی بھر کر اس کی خدمت کروں اور اس سے اپنے کیے گٸے ہر عمل کی معافی مانگوں مگر تب شاید بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور لفظ “کاش” پھر ساری عمر کے لیے اذیتّ بنا رہتا ہے۔۔۔والدین کی مثال ایک ایسے سایہ دار درخت کی سی ہے کہ جس کی گھنی چھاٶں کی قدر اس کے نہ رہنے سے ہوتی ہے۔۔

۔والدین نہ ہوں تو کوٸی بھی ناز نہیں اٹھاتا۔۔۔کوٸی یہ نہیں کہتا کہ دیر سے گھر کیوں آٸے ہو اور نہ ہی کوٸی کھانے کا پوچھتا ہے۔۔۔اس لیے ابھی وقت ہے ان لوگوں کے پاس کہ جن کے سر پر ان کے والدین کا سایہ ہے کہ وہ اپنے کیے کی معافی مانگیں اور ان کی اتنی خدمت کریں کہ ان کے مرجھاٸے چہروں پہ ہر وقت خوشی

ہی خوشی ہو نہ کہ اولاد کے رویےّ کا دُکھ چہرے کی جھُریوں سے عیاں ہو رہا ہو۔۔
بچّے اگر ماں کے احسانات کا قرض اتارنا چاہیں تو دس ذندگیاں پا کر بھی نہیں اتار سکتے لیکن اولاد کو ہر ممکن یہ کوشش کرنی چاہیٸے کہ وہ ماں کو کبھی رنج نہ پہنچاٸے اور اس کی خدمت کرے۔۔۔
ماں کے یوں خیال رکھنے کے پیچھے لازمی طور باپ کی تحریک بھی شامل ہوتی ہے کیونکہ باپ کا رول ہمیشہ پردے کے پیچھے اور نہایت ہی اہم رہا ہے۔۔۔
اللٰہ سب کے والدین کو سلامت رکھے اور سب کو انکی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرماٸے۔۔آمین
۔
احمد آفاق

Facebook Comments

POST A COMMENT.