ایک کشمیری کا دُکھ

بازار بند، راستے سنسان، بے چراغ
وہ رات ہے کہ گھر سے نکلتا نہیں کوئی

ناصر کاظمی کا یہ شعر آج شام ڈھلتے ہی بار بار ذہن میں آیا۔۔۔اپنے آباٸی گاٶں نیلم ویلی (آٹھمقام) پہنچا تو ایک عجب سماں دیکھا۔۔۔ لوگوں کے چہرے بھی بدلے دیکھے۔۔اور فضا میں ایک عجب سا خوف پہرے ڈالے بیٹھا تھا…

جب پُل سے پار اپنے گھر کی طرف پہنچا میرے اندر بھرا غم بڑھتا چلا گیا۔۔ اس سے پہلے جب بھی گھر آنا ہوتا تو پُل کے اُس پار سیڑھیوں پہ بیس سے زاٸد کی تعداد میں کزنز اور فیملی کے افراد بیٹھ کر میرا انتظار کر رہے ہوتے اور میرے پہنچنے پر ایک عجب سی رونق سب کے چہروں پر چھا جاتی اور تمام بچے مل کر ایک نعرہ بلند کرتے “آفاق بھاٸی آ گٸے۔۔۔آفاق بھاٸی آ گٸے” تو یقین مانیے میرا اندر بھی کِھل اُٹھتا۔۔۔ پھر اگلے تمام دن بچوں کے ہمراہ گھومنے پھرنے اور شرارتیں کرنے میں گزرتے۔۔۔مگر اس دفعہ پُل کے اُس پار کوٸی نہ تھا۔۔محض چند لاٸٹس کسی کے ہونے کے بارے بتا رہی تھیں۔۔ گھر پہنچ کر بہت افسردہ رہا۔۔۔

شدید گولہ باری اور فاٸرنگ کے باعث خاندان کے زیادہ تر افراد مظفرآباد کی طرف ہجرت کر چکے تھے۔۔ایک ماموں کی فیملی کے سوا گاٶں کے چند دیگر گھروں میں لوگ اب تک ہمت باندھے حالات کا مقابلہ کر رہے تھے۔۔۔ یہ خالی گھر کھانے کو دوڑ رہے تھے۔۔ ہاٸے وہ سامنے والی خالی کھڑکی کہ جہاں سے دن بھر نجانے کیا کیا کہنے اور سننے کی ناکام سی کوشش کی جاتی۔

۔۔ہاٸے وہ میرا کمرہ کہ جس کے باہر میں رات بھر بیٹھ کر مری ہوٹل کے مناظر دیکھتا اور سامنے والے پہاڑوں سے باتیں کرتا۔۔۔ ہاٸے یہ گھر کہ جہاں ہر وقت رونق ، ہنسی خوشی اور قہقہے بلند ہوتے تھے۔۔۔

آج مکمل خاموش تھے اور یہ خاموشی اندر چیر رہی تھی۔ہر طرف گہرا سکوت تھا۔ آج تو درخت بھی سینے لگ لگ رو رہے تھے۔۔۔بین کر رہے تھے۔ مجھ سے بہت کچھ کہنا چاہ رہے تھے۔ یہ پہاڑ بھی جیسے مجھ سے ناراض تھے یا پھر خوف کے مارے چُپ کی چادر اوڑھے بیٹھے تھے۔دریا تو ویسے بھی ٹھنڈ کے باعث چُپ چاپ عزت بچاٸے گزر رہا تھا۔۔آس پاس سے کیڑے مکوڑوں کی آوازیں اب باآسانی سناٸی دے رہی تھیں۔

نٸی نٸی آوازیں سننے کو مل رہی تھیں۔ مجھے بھی آج یہ سب دیکھ کے کچھ خوف سا آ رہا تھا۔ بہت من تھا کہ دریا کنارے سیر کرتا یا بازار کی طرف گھومنے جاتا مگر ایسا نہ کر پایا۔۔۔بس اس غم کو سینے سے لگاٸے گھر ہی بیٹھا رہا اور سوچتا رہا کہ کس ظالم کی نظر میرے پیار کو کھا گٸی۔۔۔ کس نے اس کے امن کو غارت کر دیا۔۔اور کیوں۔۔


بس اسی بوجھل من اور لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ عزیز و اقارب کی خیریت دریافت کرنے کی غرض سے پہنچا۔۔۔یہاں یہ بھی علم ہوا کہ اس گاٶں کے علاوہ ساتھ والے گاٶں بُگنہ ، جو کہ بارڈر کےساتھ واقع ہے اور جہاں پچھلے دنوں مکانات بھی جلے تھے ، راوٹہ ، شنگاں اور بن چھتر جیسے دیگر کٸی دوسرے گاٶں میں بھی محض اِکّا دُکّا مکانات میں لوگ باامر مجبوری رہ رہے ہیں جبکہ کثیر تعداد میں لوگ مختلف شہروں کی طرف ہجرت کر چکے ہیں جس کی وجہ حالیہ فاٸرنگ اور گولہ باری ہے جس کی زد میں آ کر متعدد افراد شہید ہوٸے ، کٸی زخمی ہوٸے اور لوگوں کی املاک کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔۔۔

یہاں سے ہجرت کرنے والے کٸی افراد دیگر شہروں میں کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور حکومت آزا کشمیر کی طرف سے بھی ان لوگوں کی آباد کاری کے لیے کوٸی انتظامات نہ کیے گٸے ہیں۔۔۔اُس پار تو دشمن نے اپنی کسر نکالی رہی سہی کسر اِس پارکے دشمن نما دوست پوری کر رہے ہیں۔۔۔

یہاں بسنےوالے لوگ آج بھی اسی سہارےیہاں موجودہیں کہ اب حالات خراب نہیں ہوں گے۔۔۔اب امن رہے گا۔۔۔ یہاں کے لوگ بھی امن پسند ہیں اور امن ہی کا راج چاہتے ہیں۔۔ یہ لوگ نہ تو دہشتگرد ہیں اور نہ ہی ایسے ظالمو سے دُور دُور تک اِن کا کوٸی واسطہ۔۔۔

پورے ویلی کے لوگ بھی امن کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے گھروں میں ہی رہنا چاہتے ہیں۔۔ خدارا انہیں جینے دو۔۔۔ان سے ان کے بچوں کا مستقبل اور ان کی زندگیاں نہ چھینو
خدار بخش دو کشمیر کو
نیلم کے لوگوں کو
۔
احمد آفاق

Facebook Comments

POST A COMMENT.