اپنے ضمیر سے کہنا تھا

دوستو: بڑی مشہور اور زبان زدِ عام حدیث مبارکہ ہے کہ عملوں کا دارو مدار نیتوں پر ہے۔چونکہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے اُس کا کام تو انسان کو بہکانہ ہی ہے۔اب جو اللہ کے پارسا بندے ہیں اُن کے سامنے تو شیطان مردود کی کوئی بساط نہیں ابلیس خود اللہ کے پاک اور ایمان والے بندوں سے ڈرتا ہے۔

جیسا کہ حضرت عمر فارو قؓ کے بارے مشہور ہے کہ وہ جس گلی سے گزرتے تھے شیطان اپنا رستہ بدل لیتا تھا۔دوستو راقم نے سال1990؁ء میں گورنمنٹ پی بی ماڈل ہائی سکول باغبانپورہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیاجیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ میٹرک کے بعد بعض ایسے دوست ہوتے ہیں جو ساری زندگی نہیں ملتے اور بعد اگر اللہ زندگی دے تو کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں مل ہی جاتے ہیں۔ ایسا ہی راقم کے ساتھ بھی ہوا۔

راقم ایک ایسی شادی میں شریک ہوا جہاں پر راقم عرصہ تیس سال بعد ایک ایسے دوست سے ملا جو شادی میں تنہاایک سیٹ پر خاموش بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اُس تنہائی میں بیٹھے آدمی کے پاس جگہ ہے سو میں نے بھی اُسی بندے کے ساتھ بیٹھنا پسند کیا۔ راقم ابھی بیٹھا ہی تھا کہ اُس بندئے خدا نے مجھے پہچانتے ہوئے کہا آپ ظفر اقبال ہو نہ میں نے کہا جی ہاں میرا نام ظفر اقبال ہی ہے۔

اُس نے کہا کہ مجھے پہچانامیں نے غور کیا تو میں نے کہا کہ آپ فلاں ہو۔میرا اگلا سوال تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور کام کاج کیسا چل رہا ہے اُس نے کہا کہ یار کیا بتلاوں بس کوئی ہال نہیں ہے میں نے گاڑیوں کے تیل تبدیل کرنے کی ورکشاپ کے ساتھ سپیر پارٹس کی دوکان بنا رکھی ہے۔گاہکوں کا تو کوئی حال ہی نہیں ہے ہر بندہ دوسرے کو داو لگا رہا ہے۔ میں آپ کو آج کی بات بتلاتا ہوں شادی کے فنگشن میں آنے سے پہلے میرے پاس ایک گاہک آیا جس نے کہا کہ میری گاڑی کا تیل تبدیل کرنا ہے اور پچھلے ٹائر کا پلاسٹک کور بھی تبدیل کرنا ہے۔ گاہک کی گاڑی کا تمام کام مکمل کروانے کے بعد میں نے چار ہزار کو بل اُس کو بنا کر دیا۔ گاہک نے روپے دیے اور چلا گیا بعد میں جب میں نے روپے کھول کر دیکھے تو معلوم ہوا کہ وہ گاہک تو ہزار کا ایک نوٹ جعلی دے گیا ہے۔میں نے دوست سے کہا کہ کوئی بات نہیں دوبارہ آئے گا تو واپس کر دینا میرے دوست نے کہا کہ یہی تو افسوس ہے کہ یہ گاہک پہلی مرتبہ ہی میرے پاس آیا تھا۔

میں نے کہا کہ بڑا افسو س ہوا ہے۔ہمیں اپنے معاملات میں فیئر ہونا چاہیے کسی کو دھوکہ دینا سب سے بُری بات ہے۔ میرے دوست نے جواباََ کہا وہ تو شکر ہے کہ میں نے تیل ہی گاڑی میں دو نمبر ڈالا تھا ورنہ میرا تو سیدھا سیدھا نقصان ہو جانا تھا۔ دوستو بات چیت جاری تھی کہ اسی دوران شادی والوں نے کھانا کھانے کا اعلان کر دیا۔ میں نے رش دیکھ کر کہا کہ کوئی بات نہیں میں رش ختم ہونے پر کھانا ڈال لاوں گا۔ مگر میرا وہ دوست فوراََگیا اور تھوڑی دیر بعد ایک پلیٹ بھر کر گوشت کی لے آیا۔

میں نے سوچا کہ شائد وہ میرا دوست میرے لیے بھی احتراماََ کھانا ڈال لایا ہے تاکہ ہم ملکر کھانا کھا لیں لیکن میرے دوست نے آتے ہی مجھے کہا کہ آپ بھی جا کر کھانا پلیٹ میں ڈال لائیں کیونکہ یہ میرج ہال ہے یہاں بعد میں باسی کھانا دیا جاتا ہے۔خیر راقم بھی اُٹھا اور اپنے نصیب کا کھانا اپنی پلیٹ میں ڈالا اور لے آیا دونوں دوستوں میں گفت و شنید جاری رہی جب ہم کھانا کھانے کے بعد فارغ ہوئے اللہ کا شکر ادا کیا بعد میں اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ہم نے دولہے کو سلامی دی۔

جب ہم دونوں دوست میرج ہال سے باہر نکلے تو میں نے دوبارہ سوال اُٹھا یا کہ پھر اُس جعلی نوٹ کا کیا بنا تو میرے دوست نے جواب دیا کہ بننا کیا تھا میں نے اُس جعلی نوٹ کو ضائع تھوڑی کرنا تھامیں نے وہ نوٹ لفافے میں پیک کیا تھا اور ابھی ابھی دولہے کو وہ نوٹ سلامی میں دے دیاہے۔ میں بڑا پریشان ہوا۔ دوستو کہتے ہیں کہ بادشاہ ہارون رشید کے زمانے میں ایک شخص کو قاصی نے موت کی سزا سُنائی۔

جب اُس شخص کوپھانسی دینے سے پہلے اُس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو سزائے موت کے قیدی نے کہا کہ میری ملاقات خلیفہ ہارون رشید سے کروائی جائے۔اُس وقت کے اصول کے مطابق میرنے والے قیدی کی خواہش پوری کروائی گئی۔ جب وہ قیدی خلیفہ ہارون رشید صاحب کے دربار میں داخل ہوا تو اُس نے بلند آواز سے کہا کہ”اسلامُ علیکم ورحمت اللہ“ جواباََ بادشاہ سلامت نے بھی کہا وعلیکم السلام اُس کے بعد بادشاہ نے کہا کہ بتلاو تم نے مجھے سے کچھ کہنا تھا اُس سزائے موت کے قیدی نے کہا کہ بس میرا کام ہو گیا۔ جلاد نے کہا چلو پھر تم کو موت کے گھاٹ اتاردیں اُس نے کہا کہ اب تم مجھے سزائے موت نہیں دے سکتے۔بادشاہ ہارون رشید نے کہا کہ کیوں نہیں دے سکتے سزائے موت کے قیدی نے کہا کہ بادشاہ آپ نے ابھی تو مجھے سلامت رہنے کی دعا دی تو اب آپ مجھے سزائے موت کیسے دے سکتے ہیں۔

کیونکہ وعلیکم السلام کا مطلب یہی ہے کہ تم پر سلامتی ہو لہذا اب بادشاہ آپ مجھے کیسے سزائے موت دے سکتے ہیں۔ بادشاہ مسکرایا اور کہا اس کو معاف کر دو اور جانے دو۔ دوستو کہنے کی بات یہ ہے کہ ہم کیسے مسلمان ہیں ایک دوسرے کو سلام بھی کرتے ہیں ہاتھ بھی ملاتے ہیں بگل گیر بھی ہوتے ہیں اور دل میں منافقت بھی رکھتے ہیں۔

دوستو اللہ پاک کا خاص احسان ہے کہ راقم اپنی زندی میں ایسے بزرگ سے ملے جنہوں نے راقم سے کہا کہ بیٹا بے شک میں بہت بڑا نمازی نہیں لیکن میں نے زندگی بھی نہ کبھی جھوٹی گواہی دی، نہ کسی کی دل آزار ی کی نہ کبھی کسی کا حق کھایا اور بیٹا یاد رکھنا اگر اللہ کی مخلوق کو پریشان کرو گے بد کلامی کروگے تو خسارے میں رہو گے اور راقم کو اپنے آخری ایام میں بزرگ نے کہا کہ بیٹا میرے پاس زندگی کے دو دن باقی ہیں میرے لیے دعا کرتے رہنا میرے لیے دعا نہ چھوڑنا اور ٹھیک دو دن بعد وہ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ لیکن اُن کے الفاظ کا مطلب شائد یہی تھا کہ مخلوق خدا جب کسی مشکل میں ہو پھنسی:سجدے میں پڑے رہنا عبادت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر ڈاکٹر ظفر اقبال ڈھلو۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.