پاکستان میں بچہ پیدا کرنے کے لیے آپریشن کمائی کا ذریعہ ہے؟ اس کی صورت حال کیاہے

ایک عالمی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق پاکستان میں زیادہ تر سی سیکشن کمائی کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ تاہم سرکاری ہسپتال اس کام میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

گزشتہ سال مارچ میں برطانوی سائنسی جریدے لینسٹ کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں ہر سال تقریباً تین لاکھ خواتین سی سیکشن کے نتیجے میں اپنی زندگی گنوا بیٹھتی ہیں۔

لینسٹ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے لیے کم اور درمیانی آمدن والے 67 ممالک سے ایک کروڑ بیس لاکھ حاملہ خواتین کے ڈیٹا کی جانچ کی گئی جس کے مطابق ہر ایک ہزار سی سیکشنز میں تقریبا آٹھ خواتین ہلاک ہو جاتی ہیں۔ پاکستان میں سی سیکشن کمائی کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔

کراچی میں 2009 تا 2013 تک کے عرصے میں ڈاکٹرز نے سی سیکشن کو بچہ جنم دینے کا طریقہ سمجھنے سے گریز کرنے کا کہا ہے کیونکہ ان کے مطابق اس کی ضرورت ہر کیس میں نہیں ہوتی۔

C section, Baby Delivery procuder

اس بارے میں ڈاکٹرز کا کہنا ہے کیہ ’اس وقت پاکستان کے زیادہ تر ڈاکٹرز ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال بھاگتے نظر آتے ہیں۔ اس دوڑ میں مریض کو ’آسان عمل‘ بتانے کے چکر میں سی سیکشن تجویز کی جاتی ہے۔ جو لوگ اپنی جان آسانی کے لیے کر لیتے ہیں مگر بعد میں پچھتاتے ہیں۔‘

اس وقت پاکستان کے ہر ہسپتال میں نارمل ڈیلیوری اور سی سیکشن کی قیمت مختلف ہے۔ جہاں نجی ہسپتالوں میں جانے والے مریض پچاس ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک دیتے ہیں وہیں سرکاری ہسپتالوں میں نارمل ڈیلیوری چند ہزاروں میں کی جاتی ہے۔

ایک مریضہ جن کا نام حبیبہ ہے ان کا پہلے بچے کے دوران مِس کیرج ہوا جس کے بعد دوسری بار انھوں نے زچگی کے دوران بہت احتیاط برتی۔

’اسی احتیاط کو دھیان میں رکھتے ہوئے میں نے اور میرے شوہر نے سی سیکشن کرانے کا سوچا کیونکہ اور کوئی حل نہیں سمجھ آ رہا تھا۔‘

تاہم ڈاکٹرز نے کہا ’سرکاری ہسپتال اس بارے میں بدنام ہیں لیکن وہاں لوگ تب جاتے ہیں جب اُن کا کیس کہیں اور خراب ہوجاتا ہے۔

اس بارے میں اب ہسپتال اپنی طرف سے گائیڈ کے طور پر پمفلٹ بھی بانٹتے ہیں تاکہ لوگ کوئی مشورہ کرنے سے پہلے سوچیں۔‘

Facebook Comments

POST A COMMENT.