Parvez Khan Khattakپرویز خان خٹک

نام:پرویز خان خٹک
ازواجی حیثیت: شادی شدہ
ستارہ:جدی
پیدائش: 1جنوری 1950
قومیت:پاکستانی
آبائی شہر:نوشہرہ مانکی شریف
پیشہ:سیاستدان
تعلیم:انکی شریف نوشہرہ،لاہور

Pavez khan khatak bio


پرویز خٹک نوشہرہ کے گاؤں مانکی شریف میں یکم جنوری 1950کو حسام خان خٹک کے ہاں پیدا ہوئے
وہ پشتونوں کے خٹک قبیلے سے ہے پرویز خٹک نے ابتدائی تعلیم مانکی شریف پرائمری سکول میں،
اور بعد میں لاہور کے پی اے اے ایم ایس میں حاصل کی۔
انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کے سیاسی رکن کے طور پر بھی کام کیا تھا۔

پرویز خٹک نے دو بار شادی کی اس کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔
ان کے بڑے بیٹے اسحاق خٹک اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس کمپنی کا انتظام سنبھال رہے ہیں
جو ان کے دادا نے قیام پاکستان سے قبل قائم کیا تھا اس کے دوسرے بیٹے ابراہیم خان خٹک
اور اسماعیل خان خٹک برطانیہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں

13 امئی 2013کو چیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے پرویز کو صوبہ خیبرپختونخواکا
وزیر اعلی نامزد کیا اس صوبے کا ایک اعلی عہدے جہاں عمران خان
کی پاکستان تحریک انصاف 99میں سے45نشستوں کے ساتھ واحد سب سے بڑی
جماعت ہے خٹک4ووٹ لے کر وزیر اعلی منتحب ہوئے جے یو آئی سے
ان کے قریبی حریف مولانالوفت ارحمن نے 3ووٹ حاصل کیے
وہ پی ٹی آئی کے ساتھ مخلوط حکومت کی قیادت کرتے ہیں

اور جماعت اسلامی اور عوامی جموری اتحاد پاکستان بھی اس کا ایک حصہ ہیں
خٹک نے 10سالہ ہائیڈرو الیکٹرک پلان دیا جو پورے صوبے میں نافذ ہو گا
انہوں نے تونائی کے تحفظ کے منصوبوں کی بھی مزودری دی انہوں نے صوبہ

کے پی کے میں بجلی چوری کی روک تھام کے لیے بھی مہم چلائی پرویز خٹک
حکومت چھوٹے دیہاتوں کے لیئے 350نمبر مینی مائکرو،ہائیڈل پاور پروجیکٹس
بنانے کا اعلان کیا اور بعد میں اس منصوبے کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے یہ تعداد بڑھا دی۔

خٹک انتظامیہ نے چھاتی کے کینسر کے متعلق اگاہی بڑھانے کے لیے ڈرائیور ز امتعارف کروائیں
پرویز خٹک کی زیر قیادت کے پی حکومت نے بھی ملک میں پبلک سیکٹر کی طرح کی
پہلی سہولت قائم کی جو صوبے کے پسماندہ طبقات کے لیے معاشرتی صحت انشورنس پروگرام ہے


ان انشورینس کارڈ کے زریعے پسماندہ افراد صوبے کے نجی اور سرکاری
دونوں اسپتالوں میں بلا معاوضہ طبی امداد حاصل کر سکیں گے۔
بہر حال وہ ڈورن حملوں کے خلاف سخت گیر کاروائی کرتے ہوئے

انتہا پسندی میں توسیع کے طور پر دیکھتے ہیں اور دھمکی دی ہے
کہ اگر ڈرون حملے جاری رہے اور وفاقی حکومت ان روکنے سے انکار کرتی ہے
تو نیٹو سپلائی لائنوں کو روک دے گی 2نومبر کے ڈرون حملے کے بعد،
طالبان سے امن مزکرات کا آغاز ہونے سے ایک روز قبل خٹک نے
تصدیق کی کہ وہ واقعی نیٹو سپلائی لائنوں کو روکنے کے لیے اپنی طاقت کا استعمال کریں گے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.